ورناکیولر (Vernacular) کا مطلب؟

ڈاکٹر اصغر دشتی

گزشتہ دنوں XGen Media Production سے وابستہ معروف پوڈکاسٹر علی احمد جان. ( Ali Ahmad Jaan ) کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ کرتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ انگریز (ایسٹ انڈیا کمپنی / برطانوی راج) اردو سمیت دیگر زبانوں کو ورناکیولر زبان کہتے تھے جس کا مطلب ہے ”غلاموں کی زبان“۔ سوشل میڈیا پر پوڈ کاسٹ دیکھنے والے کافی افراد نے اس حوالہ سے مجھ سے سوالات کیے کہ اس نقطہ کو ذرا زیادہ واضح انداز میں بتایا جائے۔ چونکہ 50 منٹ کی پوڈ کاسٹ میں موضوع کے مختلف پہلوؤں پر بات کرنی تھی لہٰذا تفصیلات پیش کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ اس تحریر کے ذریعہ متعلقہ لفظ کی وضاحت کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔
ورناکیولر لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی
”گھر میں پیدا ہونے والا غلام“
(یعنی وہ غلام جو خریدا نہ گیا ہو)
"مقامی غلام“
(یعنی غلاموں کی وہ نسل جو باہر سے نہ لائی گئی ہو)
” عام لوگوں کی زبان ”
(خواص یعنی کالونائزر کے مقابلے میں)
” غیر مہذب زبان”
(کالونائزر ہمیشہ تہذیب یافتہ ہوتا ہے)
"خامیوں سے بھری زبان”
(لسانی برتری کا اظہار)
اس لفظ کے سیاق و سباق سمجھنے کے لیے تاریخ انسانی میں غلام داری نظام (Slavery) کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
غلامی کا باقاعدہ آغاز بحیثیت ایک معاشی نظام کے قبائلی نظام کے خاتمہ کے بعد ایتھنز (یونان) میں 600 سال قبل مسیح میں ہوا۔ اس طرح رومن ایمپائر میں 150 سال قبل مسیح سے 350 سال بعد از مسیح غلامی کا نظام قائم تھا۔ اسی طرح امریکہ میں 1865ء تک غلامی کا نظام قائم تھا۔ جب انگلینڈ نے1607 میں امریکہ کو اپنی کالونی بنایا تو وہاں پر افریقی غلاموں کو جبری مزدوری / غلامی کے لیے لایا اور بسایا گیا۔ یہ غلام مختلف افریقی ممالک سے لائے جاتے تھے۔ لہٰذا جب یہ غلام اپنی زبانوں میں گفتگو کرتے تھے تو انگریز نوآباد کاروں نے ان کی زبان کو ”ورناکیولر“ یعنی غلاموں کی زبان کہا۔ انگریزی میں یہ لفظ لاطینی زبان سے آیا ہے۔ ورناکیولر کے ایک معنی ”عام لوگوں کی زبان“ بھی ہے کیونکہ انگریز نوآبادکاروں کے مقابلہ میں افریقی غلام عام لوگ بلکہ کیڑے مکوڑے تھے اور نوآبادکار کسی بھی طور انہیں انسان نہیں سمجھتے تھے۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افریقی غلاموں کی زبان افریقی تلفظ اور لفظوں کی آمیزش کے ساتھ انگریزی بن گئی تو نوآبادکاروں کی جانب سے اسے ایفرو۔امریکن ورناکیولر انگلش زبان کہا گیا۔ یہاں پر ورناکیولر سے مراد ”غیر مہذب زبان“ یا ”خامیوں سے بھری زبان“ تھی۔ یعنی وہ انگریزی جو افریقی نسل کے امریکی غلام بولتے تھے۔ اسے "بلیک انگلش ورناکیولر "بھی کہا جاتاتھا۔ چونکہ افریقی غلاموں کی زباں بھی آہستہ آہستہ انگریزی ہوگئی تو نوآبادکاروں نے اس کے مقابلہ میں اپنی زبان کے لیے” معیاری انگریزی”( Standard English) کی اصطلاح استعمال کی (جیسے عام طور پر اردو میں بہاری، حیدرآبادی/ دکنی، دہلوی یا رام پوری کے مقابلہ میں لکھنوی اسٹینڈرڈ کو نسبتاً زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔)
لفظ ورناکیولر کے ساتھ غلامی اور نسل پرستی کی ایک پوری تاریخ ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی انگریزوں کی جانب سے ورناکیولر لینگویجز، ورناکیولر پریس اور ورناکیولر ایجوکیشن کی اصطلاحیں استعمال کی گئیں اور کالونیلٹی آف نالج کے تحت انہیں تحقیر، کم تری اور غلامی کے سیاق و سباق سے کاٹ کر مقامی /دیسی کا نام دے کر تعلیمی نظام کا حصہ بنایا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button